ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شیموگہ میں مسلم چکن شاپ اور ہوٹل پر حملہ کے الزام میں، 7 کارکن گرفتار

شیموگہ میں مسلم چکن شاپ اور ہوٹل پر حملہ کے الزام میں، 7 کارکن گرفتار

Sat, 02 Apr 2022 22:28:24    S.O. News Service

بنگلورو،2؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی)  کرناٹک میں حلال پر پابندی عائد کرنے کے تنازعہ نے سنگین موڑ اختیار کرلیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے ہفتہ کے دن کہا کہ انہوں نے تمام ایس پیز اور ڈپٹی کمشنرس کو ہدایت دی ہے کہ تہوار کے دوران مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

کرناٹک میں سنیچر کواُگادی کا تہوار منایا گیا اور اتوار کے دن بھی ایک تہوار منایا جانے والا ہے۔ عوام خاص طورپر جنوبی کرناٹک کے لوگ اس موقع پر نان ویج غذا(گوشت) بڑے پیمانہ پر استعمال کرتے ہیں۔

دوسری طرف ہندوتوا کارکن اس بات کو لے کر تحریک چلارہے ہیں کہ ہندو‘ حلال گوشت نہ خریدیں۔ ایک سوال کے جواب میں بسواراج بومئی نے کہا کہ وہ ہدایت دے چکے ہیں کہ مختلف مذہبی رہنماؤں کے ساتھ امن میٹنگ کی جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر سسٹم درہم برہم نہ ہو

اسی دوران ضلع شیموگہ کے بھدراوتی میں پولیس نے 7 افراد کو گرفتار کرلیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جمعہ کی رات غیرحلال گوشت کا مطالبہ کرتے ہوئے ہوٹل کے عملہ پر حملہ کردیا تھا۔

یہ لوگ ایک چکن کی دکان پر بھی گئے تھے جہاں انہوں نے دکان مالک کو گالیاں دیں اور دھمکایا تھا کہ وہ حلال گوشت کی فروخت نہ کرے کیونکہ دکان کے اطراف کے علاقہ میں 99 فیصد ہندو لوگ بستے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں جنتا ہوٹل گئے اور مطالبہ کیا کہ انہیں غیرحلال (جھٹکا)غذا فراہم کی جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ جنتا ہوٹل حلال گوشت سے بنی غذا فروخت نہ کرے۔ انہوں نے ایک گاہک سے جھگڑا کیا اور ہوٹل کے ایک ملازم پر حملہ کردیا۔ ہوٹل اور چکن شاپ کے مالکین نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔

شیموگہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لکشمی پرساد نے بتایا کہ 2 ایف آئی آر کی بنیاد پر 7 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی دوران کرناٹک کی وزیر اوقاف  ششی کلا جولے نے ہفتہ کے دن کہا کہ ہم حلال گوشت کے خلاف مہم چلانے والوں کے ساتھ ہیں۔

ریاست میں وشوا ہندو پریشد(وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی ”بائیکاٹ حلال پراڈکٹس“ مہم زور پکڑچکی ہے۔


Share: